Home » News & Views
Have Pity on Nation……ترس کھا ایسی ملت پر
25 July 2009
One Comment
While browsing today I came across these lines on BBC Urdu posted by وسعت اللہ خان which are ‘politically’ correct but hard to except. Truth is bitter but can’t be changed. these lines had been composed by the greatest Philosopher of all times, Khalil Jibran in 1935. It seems to me as a Universal truth as the lines and the depth of thought are applicable in any age or Era.
ترس کھا ایسی ملت پر جو توہمات سے پر اور عقیدے سے خالی ہو
ترس کھا ایسی ملت پر جو وہ زیبِ تن کرتی ہو جو اس نے نہیں بنا، وہ کھاتی ہو جو اس نے نہیں بویا، وہ شراب پیتی ہو جو کسی اور نے کشید کی
ترس کھا ایسی ملت پر جو غنڈے کو ہیرو سمجھےاور فاتح کو بھر بھر جھولی درازی عمر کی دعا دے
ترس کھا ایسی ملت پر جو نیند میں بہادر اور جاگتے میں بزدل ہو
ترس کھا ایسی ملت پر جس کی صدا سوائے جلوسِ جنازہ کبھی بلند نہ ہو، سوائے زیرِ شمشیر کبھی گردن نہ اٹھے
ترس کھا ایسی ملت ہر جس کا مدبر لومڑ اور فلسفی مداری ہو اور ہنر ان کا صرف لیپا پوتی اور نقالی ہو
ترس کھا ایسی ملت پر جو نقارہ بجا کر نئے حاکم کا استقبال کرے اور آوازے کس کے رخصت کرے اور پھر نقارہ بجائے اگلے حاکم کے لیے
ترس کھا ایسی ملت پر جس کے دانشمند گزرتے وقت کے ساتھ بہرے ہوتے چلے جائیں، جس کے قوی اب تک گہوارے میں ہوں
ترس کھا ایسی ملت پر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ٹکڑا خود کو ملت جانے۔۔۔۔۔۔۔
( گلشنِ پیمبر۔ خلیل جبران۔انیس سو تینتیس )
[...] Originally posted on Pakfactor.com [...]
Leave your response!